بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) تملناڈو کو کاویری سے پانی فراہم کرنے کے سلسلے میں کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات کو کانگریس اراکین پارلیمان نے کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے کی قیادت میں ودھان سودھا کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج میں مسٹر کھرگے کے علاوہ کانگریس اراکین پارلیمان کے ایچ منی اپا، مدو ہنومے گوڈا، دھروا نارائن، ڈی کے سریش، راجیہ سبھا کے اراکین پروفیسر راجو گوڈا، کے سی رام مورتی، چندرپا اور دیگر نے حصہ لیا۔ان اراکین پارلیمان نے اعلان کیا کہ کاویری مسئلے پرآج جمعہ کو ریاستی لیجسلیچر میں اتفاق رائے سے جو قرار داد منظور کی جائے گی وہ تمام ان کے ساتھ رہیں گے۔ ریاست کے ساتھ اگر ناانصافی ہوئی تو اس کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے۔اس موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ریاستی عوام کو بہت دکھ پہنچا ہے۔اس فیصلے پرعمل سے عوام مشکل میں آجائیں گے۔ جہاں تک کرناٹک کے مفادات کا سوال ہے اس فیصلے سے وہ بری طرح متاثر ہوں گے۔ ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے اعلان کو ان اراکین پارلیمان نے یکطرفہ اور نامناسب قرار دیا۔ ان لوگوں نے الزام لگایا کہ کاویری معاملے پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس کے پیچھے پوشیدہ مفادات کار فرما ہیں۔ شہر بنگلور کی ہمہ رخی ترقی کو برداشت نہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی ایماء پر یہ فیصلہ لیا گیا ہوگا، تاکہ کرناٹک ترقی کے محاذ پر گجرات سے آگے نہ جاسکے۔ مسٹر کھرگے نے بتایاکہ کانگریس اراکین پارلیمان اس معاملے میں لوک سبھا کے اندر اور باہر مسلسل تحریک چلاتے رہیں گے۔کاویری آبی تنازعہ کو سلجھانے کیلئے مداخلت کرنے کی بجائے اس سے دامن بچانے کی مودی کی کوشش پر ان اراکین پارلیمان نے شدید نکتہ چینی کی اور کہاکہ وفاقی نظام کے تحت دو ریاستوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجائے تو اسے سلجھانا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ایک ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر دو ریاستوں میں آگ لگی ہوئی ہے، پھر بھی وزیراعظم اس میں مداخلت کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔اس سے پہلے کاویری مسئلے پر اندرا گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ نے مداخلت کی ہے اور دونوں ریاستوں کے مابین مصالحت کروائی ہے، لیکن موجودہ وزیراعظم کو اس میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے۔